خالص مالیت تمام اثاثوں کے مجموعے میں سے تمام واجبات کا مجموعہ نکالنے کے بعد بچنے والی رقم ہے۔ اگر آپ کے پاس 16,105,000 روپے کے اثاثے ہیں اور 4,945,000 روپے کے واجبات، تو آپ کی خالص مالیت 11,160,000 روپے ہے، یعنی ایک کروڑ 11 لاکھ 60 ہزار۔ یہ ایک خاص تاریخ کی تصویر ہے؛ اس سے یہ پتا نہیں چلتا کہ آپ کتنا کماتے یا خرچ کرتے ہیں۔
فارمولا
خالص مالیت = اثاثے − واجبات
یہ وہی منطق ہے جو کسی کمپنی کی بیلنس شیٹ میں ہوتی ہے: اثاثے = واجبات + ملکیت۔ فرد کے لیے “ملکیت” ہی خالص مالیت ہے۔ حساب درست ہو تو دونوں طرف برابر نکلتے ہیں۔
اثاثوں میں کیا آتا ہے
اثاثے وہ چیزیں ہیں جو آپ کی ملکیت ہیں اور جن کی ایک مالی قیمت ہے:
- نقد: کرنٹ اکاؤنٹ، بچت اکاؤنٹ، مدتی ڈپازٹ، گھر میں رکھی نقدی
- سرمایہ کاری: پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے حصص، میوچل فنڈز، سیونگ سرٹیفکیٹ، پرائز بانڈ، رضاکارانہ پنشن اسکیم میں جمع رقم، کرپٹو
- سونا اور قیمتی دھاتیں: وزن کو موجودہ ریٹ سے ضرب دے کر
- وصولیاں: جو رقم کسی نے آپ کو لوٹانی ہے، مثلاً دوست یا رشتہ دار کو دیا ہوا قرض، گروی رکھا ہوا ایڈوانس، یا کمیٹی میں جمع رقم
- مادی اثاثے: گھر، پلاٹ، دکان، گاڑی، اور وہ چیزیں جو آپ بیچ سکیں
واجبات میں کیا آتا ہے
واجبات وہ ہیں جو آپ کو ابھی لوٹانے ہیں:
- ہاؤس لون یا ہوم فنانسنگ کا باقی ماندہ اصل
- کار لون یا کار فنانسنگ، پرسنل لون، اقساط پر لی گئی چیزیں
- کریڈٹ کارڈ کا واجب الادا بقایا
- رشتہ داروں یا دوستوں سے لیا ہوا قرض
- کمیٹی کی وہ قسطیں جو ابھی دینی ہیں، اگر آپ کی کمیٹی نکل چکی ہو
ہمیشہ باقی ماندہ رقم لکھیں، یعنی آج جتنا لوٹانا ہے، نہ کہ قرض کی اصل منظور شدہ رقم۔ ماہانہ قسط میں منافع یا سود اور اصل دونوں ہوتے ہیں؛ قرض صرف اصل کے حصے سے گھٹتا ہے۔
روپوں میں ایک مثال
فرض کریں ایک گھرانے کے اعداد ماہ کی آخری تاریخ پر یہ ہیں (اعداد فرضی ہیں):
| اثاثے | رقم (روپے) |
|---|---|
| کرنٹ اکاؤنٹ | 85,000 |
| بچت اکاؤنٹ | 450,000 |
| سیونگ سرٹیفکیٹ | 1,500,000 |
| پرائز بانڈ | 100,000 |
| PSX کے حصص (موجودہ بازاری قدر) | 620,000 |
| میوچل فنڈ (موجودہ قدر) | 400,000 |
| رضاکارانہ پنشن اسکیم | 350,000 |
| سونا (موجودہ ریٹ پر) | 1,750,000 |
| گھر (تخمینی بازاری قیمت) | 8,500,000 |
| گاڑی (استعمال شدہ گاڑی کی مارکیٹ قیمت) | 2,200,000 |
| دوست کو دیا ہوا قرض | 150,000 |
| کل | 16,105,000 |
| واجبات | رقم (روپے) |
|---|---|
| ہاؤس لون (باقی ماندہ) | 3,800,000 |
| کار لون (باقی ماندہ) | 900,000 |
| کریڈٹ کارڈ (ابھی ادا نہیں ہوا) | 45,000 |
| رشتہ دار کو لوٹانے کی رقم | 200,000 |
| کل | 4,945,000 |
خالص مالیت = 16,105,000 − 4,945,000 = 11,160,000 روپے۔
تصدیق کے لیے: 4,945,000 (واجبات) + 11,160,000 (خالص مالیت) = 16,105,000، یعنی بالکل اثاثوں کے برابر۔
گھر کے ساتھ اور گھر کے بغیر
| گھر سمیت | گھر اور ہاؤس لون کے بغیر | |
|---|---|---|
| اثاثے | 16,105,000 | 7,605,000 |
| واجبات | 4,945,000 | 1,145,000 |
| خالص مالیت | 11,160,000 | 6,460,000 |
پہلا عدد بتاتا ہے کہ مجموعی طور پر آپ کی ملکیت کتنی ہے۔ دوسرا بتاتا ہے کہ گھر کو چھوئے بغیر آپ کے پاس کیا ہے۔ ضروری یہ ہے کہ دونوں پر لیبل لگائیں اور وقت کے ساتھ ہمیشہ ایک ہی قسم کا موازنہ کریں۔
کون سی قیمت لکھیں
سادہ اصول: وہ قیمت جو آج آپ کو ملے گی، نہ کہ جو آپ نے ادا کی تھی۔
- حصص اور فنڈز: آج کی قیمت ضرب تعداد (یا یونٹس)۔ فنڈ کی یونٹ ویلیو فنڈ مینیجر کی شائع کردہ تازہ ترین خالص اثاثہ جاتی قدر سے لیں۔
- سیونگ سرٹیفکیٹ: جمع شدہ اصل رقم، اور اگر آپ منافع الگ سے وصول کر لیتے ہیں تو صرف اصل۔
- پرائز بانڈ: بانڈ پر لکھی ہوئی مالیت۔
- سونا: وزن (تولہ یا گرام) ضرب آج کا ریٹ۔ زیور کی صورت میں بیچنے پر بنوائی عام طور پر نہیں ملتی، اس لیے محتاط رہیں۔
- گھر یا پلاٹ: اپنے علاقے میں ملتی جلتی جائیداد کی حالیہ قیمتوں سے حقیقت پسندانہ اندازہ۔ بار بار نہ بدلیں، صرف جب کوئی بڑی تبدیلی ہو۔
- گاڑی: ویسی ہی استعمال شدہ گاڑی کی مارکیٹ میں قیمت۔
عام غلطیاں
1. قرض کی اصل رقم لکھنا، باقی رقم نہیں۔ اگر آپ نے 5,000,000 کا ہاؤس لون لیا تھا اور 1,200,000 اتار چکے ہیں تو واجب الادا 3,800,000 ہے۔
2. خریدی ہوئی قیمت لکھنا، آج کی نہیں۔ جو حصص آپ نے 500,000 کے خریدے تھے اور اب 620,000 کے ہیں، فہرست میں 620,000 لکھے جائیں گے۔
3. جو رقم ابھی ملی نہیں اسے گننا۔ متوقع بونس، ممکنہ وراثت یا امید کی ہوئی واپسی اس وقت تک شامل نہیں جب تک رقم نہ آ جائے یا واضح حق نہ بن جائے۔
4. چھوٹے قرض بھول جانا۔ کریڈٹ کارڈ، اقساط اور رشتہ داروں کا ادھار تعداد میں کم لگتے ہیں مگر اس تاریخ پر موجود ہوتے ہیں۔
5. ہر بار اصول بدل دینا۔ کبھی گھر 8,500,000 اور کبھی 8,000,000 گنیں گے تو آپ اپنی دولت نہیں، اپنی رائے کی تبدیلی دیکھیں گے۔ اصول طے کریں اور اس پر قائم رہیں۔
6. خالص مالیت کو زکوٰۃ کا حساب سمجھنا۔ دونوں کے اصول الگ ہیں؛ اوپر کے سوالات میں دیکھیں۔
عملی طریقہ
پہلا حساب ایک شام میں ہو جاتا ہے۔ بینک اسٹیٹمنٹ، سیونگ سرٹیفکیٹ، بروکر یا CDC کی اسٹیٹمنٹ، قرض کی قسطوں کا شیڈول اور کریڈٹ کارڈ کا بل ہاتھ میں رکھیں، تاریخ لکھ لیں۔ اس کے بعد مہینے میں ایک بار صرف بدلی ہوئی چیزیں اپ ڈیٹ کر دینا کافی ہے۔
یہ سب ایک اسپریڈ شیٹ میں ہو سکتا ہے۔ اگر قیمتیں، کرنسی کی شرحیں اور قرض کے بیلنس سنبھالنا بوجھ بنے تو Accounted ایک iPhone ایپ ہے جو یہی حساب بیلنس شیٹ کی شکل میں بناتی ہے۔ ہر اکاؤنٹ کا ایک نمبر لکھیں، قرض واجبات کے کالم میں بیلنس کے طور پر رہتا ہے، اور کسی اکاؤنٹ کو “خالص مالیت میں شامل کریں” سے نکال کر گھر کے بغیر والا عدد بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ امریکی اسٹاکس، بھارت کے NSE اور BSE سمیت کئی ایکسچینجز، کرپٹو اور قیمتی دھاتوں کی قیمتیں خود لگتی ہیں (ہر گھنٹے تازہ، تاخیر ممکن)، لیکن پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے حصص کی قیمتیں خودکار نہیں ہیں، وہ آپ ہاتھ سے لکھتے ہیں۔ اس کے لیے PSX کی لائیو قیمتیں چاہییں تو Investify سے موازنہ دیکھیں۔
ایک بات پہلے سے: Accounted ایک شخص کے لیے ہے، اس کے اپنے iPhone پر۔ مزید طریقۂ کار اور قیمتوں کے صفحات پر ہے۔
عمومی معلومات، مالی مشورہ نہیں۔
عمومی معلومات، مالی مشورہ نہیں۔